05
Jun
09

کٹھن راہِ محبت ہے، مَیں تنہا چل نہیں سکتا

کٹھن راہِ محبت ہے، مَیں تنہا چل نہیں سکتا
مجھے تیری ضرورت ہے، مَیں تنہا چل نہیں سکتا

اگرچہ ان سہاروں کا مَیں قائل تو نہیں لیکن
تُو میرے دل کی چاہت ہے، مَیں تنہا چل نہیں سکتا

تیری خاطر زمانے بھر سے مَیں نے دشمنی لے لی
یہی جگ کی روایت ہے، مَیں تنہا چل نہیں سکتا

تعجب ہے کہ جس کا عکس میرے ساتھ چلتا ہے
اُسے بھی یہ شکایت ہے، مَیں تنہا چل نہیں سکتا

بہاریں بھی اُسی کے ساتھ عظمی دل کو بھاتی ہیں
یہی برسوں کی عادت ہے، مَیں تنہا چل نہیں سکتا

Advertisement

0 Responses to “کٹھن راہِ محبت ہے، مَیں تنہا چل نہیں سکتا”



  1. Leave a Comment

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s


Follow

Get every new post delivered to your Inbox.